اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے کہنہ مشق صحافی اور تہران کے کثیر الانتشار روزنامے "کیھان " کے مدیر اعلی حسین شریعتمداری نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ :
۱ ۔ یہ قول جرمنی کے ایک ڈرامہ نگار اور شاعر برٹولٹ برشٹ کا ہے کہ جو کہا کرتا تھا ،ایک شخص کے ساتھ ہمیشہ جھوٹ بولا جا سکتا ہے اور سب کے ساتھ ایک بار جھوٹ بولا جا سکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیے سب کے سامنے جھوٹ نہیں بولا جا سکتا ۔
ہفتے کی رات پیرس پر ایک ساتھ کئی دہشت گردانہ حملے ہوئے کہ جن میں اب تک ۱۶۰ فرانسیسی شہری مقتول اور ۲۰۰ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں سے ۸۰ افراد کی جسمانی حالت خراب ہے اور مزید ہلاکتوں کا احتمال بھی پایا جاتا ہے ۔ اس دہشت گردانہ کاروائی کی داستان کہ جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے یورپ اور امریکہ میں بڑے پیمانے پر وحشت پھیلنے کا باعث بنی ہے ،پورے فرانس میں فوجی حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے ،زمینی ،ہوائی اور سمندری راستے بند کر دیے گئے ہیں اور فرانس کے ریڈیو اور ٹی وی سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد لوگوں کو باخبر کیا جا رہا ہے کہ اپنے گھروں سے نہ نکلیں ۔امریکہ کے بہت سارے شہر وں جیسے نیو یارک میں اور یورپ کے شہروں اور راجدھانیوں میں اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں کے خوف سے ایمر جینسی نافذ کر دی گئی ہے ،اس واقعے کی تفصیلی خبر آج روز نامہ کیھان میں اس عنوان کے تحت آئی ہے کہ داعش نام کے پاگل کتے نے اپنے مالکوں کی ٹانگ پکڑ لی ہے ۔
اس سے پہلے اور داعش کے وحشیانہ حملوں کے بعد امام خامنہ ای نے خبر دار کیا تھا کہ تکفیری دہشت گردوں کے حامی ملک اپنے ہاتھوں کی لگائی ہوئی گرہیں اپنے دانتوں سے کھولنے پر مجبور ہوں گے ۔
اور یہ اسی دور کا آغاز ہے کہ جس کی حضرت امام خامنہ ای نے پیشین گوئی کی تھی ۔
علاقے کے کچھ ملک تکفیری دہشت گردوں کی حمایت کے ذریعے شام میں اور کچھ دوسرے ملکوں میں ان کے جرائم اور قتل و غارت کی حمایت کر رہے ہیں لیکن مستقبل قریب میں یہ گروہ انہی حامی ملکوں کے لیے وبال جان بن جائیں گے اور آخر کار مجبور ہو کر بھاری سرمایہ خرچ کر کے وہ اسے نابود کریں گے ۔(2جون 2014)
۲ ۔ ایڈوارڈ اسنوڈین ، امریکہ کی جاسوسی ایجینسی ، سی آئی اے[CIA] کا سابقہ حلیف کہ جس نے سی آئی اے کی مخفی اسناد کا راز فاش کر کے امریکہ اور یورپ کو کمر شکن اور بے مثل مشکلوں کے رو برو کیا ہے اور ان اسناد کو چونکہ جاسوسی تنظیم سی آئی اے کی پہچان اور اس کے کوڈ ورڈ کے ساتھ منتشر کیا جا رہا ہے ،امریکی حکام ان کے انکار کی طاقت نہیں رکھتے ،اس نے داعش کی دہشت گردانہ کاروائئ کے ابتدائی چند مہینوں میں ہی اس راز سے پردہ اٹھا دیا تھا کہ ؛
امریکہ کی انٹیلیجینٹ سرویس سی آئی اے ،برطانیہ کی انٹیلیجینٹ سرویس اور اسرائیل کی جاسوسی تنظیم موساد کا دولت اسلامی عراق و شام نامی گروہ (داعش ISIS) کی تشکیل میں ہاتھ ہے ،اور انہوں نے ایک مشترکہ پروجیکٹ ،شہد کی مکھیوں کا چھتہ[VESPIARY] ،پر کام کر کے اس گروہ کو بنایا ہے ،اسنوڈین نے مزید بتایا کہ داعش کو اسرائیل کی حمایت کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور شہد کی مکھیوں کے چھتے کی کاروائی کا اصلی مقصد اسلامی نعروں کے ساتھ ایک ایسے گروہ کی تشکیل کہ جو پوری دنیا سے انتہا پسندوں کو جذب کرے جس کی بنیاد وہابیوں کے عقاید پر ہو اور وہ اسرائیل کی موجودیت کے مخالف ملکوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں ۔اسنوڈین نے ایک اور سند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ داعش ISISکے سر کردہ نے ایک مختصر مدت یعنی ایک سال تک موساد سے ٹرینینگ حاصل کی تھی ،جس میں فوجی ٹرینینگ اور تقریر کرنے کا طریقہ دونوں شامل تھے ۔
ہیلری کلینٹن امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ نے اپنی کتاب ہارڈ چائسیس[HARD CHOICES] میں کہ جو ماہ جولائی 2013 میں منتشر ہوئی ہے اس میں اس نے امریکہ کی تکفیری گروہ تشکیل دینے کی کوششوں کی جانب اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ طے پایا تھا کہ پانچ جنوری ۲۰۱۳ کو اپنے یورپی دوستوں کی موجودگی میں ایک بیٹھک میں ہم دولت اسلامی کو سرکاری طور پر تسلیم کریں ،چنانچہ میں نے ۱۱۲ ملکوں کے دورے کیے تاکہ دولت اسلامی عراق و شامات کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے کردار اور اپنے بعض دوستوں کی موافقت کے بارے میں اس گروہ کے اپنے وجود کا اعلان کرنے کے فورا بعد وضاحت کروں ۔
برطانیہ کے سابقہ وزیر خارجہ ڈیویڈ میلی بینڈ نے 10اگست 2015کے دن آبزرور کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں تقریبا صراحت جیسے اشارے میں داعش کی پیدائش کے سلسلے میں برطانیہ کے کردار سے پردہ اٹھایا ۔
برطانیہ کا سابقہ وزیر اعظم ٹونی بلئیر داعش کی پیدائش میں اپنے ملک کے کردار کا انکار نہیں کر سکتا اور یہ کہنے کو ترجیح دیتا ہے کہ داعش کی پیدائش ہمارے عراق پر حملے کا نتیجہ تھی ۔
امریکہ کی دفاعی اطلاعاتی ایجینسی کے سابقہ سر براہ مایکل فلین نے الجزیرہ چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں تصریح کی ہے : امریکہ کا داعش ، النصرہ ، اور القاعدہ کی پیدائش اور سر پرستی میں ہاتھ رہا ہے ۔
گلوبل ریسرچ لکھتا ہے : داعش کے بہت سارے سرغنوں نے گرفتار ہونے کے بعد اعتراف کیا ہے کہ ان کو امریکہ کی فوجی اور اطلاعاتی حمایت حاصل ہے اور اسی طرح کے امریکی اور یورپی حکام کے دسیوں اعترافات ہیں کہ جن کی فہرست لمبی ہو جائے گی ۔ قابل ذکر ہے کہ ایسی بہت سی اسناد منتشر ہوئی ہیں کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ تکفیری گروہوں کی تشکیل اور کار کردگی کے اخراجات ،آل سعود ، قطر اور علاقے کے بعض دیگر عربی ملک اٹھاتے ہیں ۔لیکن ان اعترافات کو سند بنائے بغیر صرف داعش کے نظریات اور اس کی کارکردگی کو دیکھنے سے ہی اس وحشی دہشت گرد گروہ کی جنم بومی کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے بے گناہ لوگوں کا وحشیانہ قتل عام ارتکاب شدہ جرائم کی ویڈیو اور فیلم بنا کر منتشر کرنا ،اس بات کا صاف اعلان کرنا کہ اسرائیل ہمارے حملوں کا نشانہ نہیں ہے ،تل ابیب اور حیفا کے ہسپتالوں میں داعش کے زخمیوں کا علاج کیا جانا نیتن یاہو کی ان کی عیادت کرتے ہوئئے تصویریں بنوانا ،نیتن یاہو کا اعتراف کہ داعش نے مزاحمت کی فوجوں کو اسرائیل کی سر حد سے دور کر دیا ہے اور اسرائیل اور مسلمانوں کی جنگ کو اس نے مسلمانوں کی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں تبدیل کر دیا ہے ۔
۳ ۔ تکفیری گروہ منجملہ داعش کی بناوٹ میں دو چیزیں شامل ہیں ایک چیز ان کے سرغنے ہیں اور دوسری چیز ان کے تحت کام کرنے والے افراد ہیں کہ جن کو بدنہ(پیکر) کہا جاتا ہے ،احکام اور دستورات سرغنوں تک پہنچتے ہیں اور اس کے بعد وہابیت کے نظریے کے مطابق کہ جن کا اصلی ترین مظہر آل سعودہیں اور وہی ان کی لشکر گاہ ہے ان کا ترجمہ تکفیری اسلام میں کیا جاتا ہے اور پھر اس کو اصلی ٖڈھانچے تک پہنچایا جاتا ہے ،ڈھانچے اور پیکر میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ عام طور پر نادان اور اسلامی معلومات سے بے بہرہ ہوتے ہیں وہ وہابیوں کے مفتیوں کی نگرانی میں تربیت پاتے ہیں اور ان میں سے کچھ کا کچھ خاص طریقوں سے کہ جن کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ہے برین واش کیا جاتا ہے اور وہ خود کش حملوں کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ،اس وہم کے ساتھ کہ ہلاکت کے فورا بعد وہ رسول خدا ص کی خدمت میں پہنچ جائیں گے !اس گروہ کی تعلیم میں ان چند گروہوں کے نظریات اور عقاید سے استفادہ کیا جاتا ہے جو جو امریکہ برطانیہ اور اسرائیل کی اطلاعاتی ایجینسیوں سے وابستہ ہیں جو برطانوی شیعہ کہلاتے ہیں ۔برطانوی شیعوں کو محولہ ذمہ داری اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا ہے اور یہ کام سیٹیلائٹ چینل کے ذریعے کیا جاتا ہے ،مثال کے طور پر ایک چینل ہے جس کا نام اہل بیت ! ہے اس کا مرکز امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کا شہر سان دیگو ہے جس کا مجری بظاہر ایک شیعہ افغانی طالبعلم ہے اس چینل سے روزانہ ۴ گھنٹے پروگرام نشر ہوتا ہے جس کو بار بار نشر کیا جاتا ہے ۔اس چینل کی ذمہ داری کہ جس کا ڈائریکٹر شائول بخاش ایرانی یہودی ہے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا ہے ۔ اور ان چینلوں کے اس طرح کے پروگراموں کو ان تکفیریوں کو دکھایا جاتا ہے کہ جن کو خود کش حملوں کی ٹرینینگ دی جاتی ہے ۔
داعش کا جو پیکر ہے اس کے افراد کو ان کتابوں کو پڑھنے سے سختی سے روکا جاتا ہے کہ جو وہابیت کے دائرے سے باہر ہیں ۔۔۔
قابل ذکر ہے کہ اس طرح کی تعلیمات منافقین کی دہشت گرد تنظیم کو بھی دی جاتی تھیں ،اور یہ کام کینٹ ٹیمر مین کی مدیریت میں کہ جو پہلے سی آئی اے میں ایران کی میز کا مسئول تھا اور پھر پینٹاگون میں بھی رہا ہے ہو رہا ہے ۔
۴ ۔ تکفیریوں کی دھر پکڑ ،ان کے دستور العمل ،اور خارجی ارتباطات منجملہ داعش کے ان امور کا تعلق صرف سرغنوں سے ہو تا ہے اور یہ چیزیں ہر گز بھی پیکر کے افرد تک نہیں پہنچتی ہیں ۔پیکر کے افراد موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر اس دہشت گرد گروہ کے ہاتھوں گرفتار ہونےو الوں سے صرف دستور العمل دریافت کرتے ہیں ،اور سرغنے وہابی عقاید سے استفادہ کرتے ہوئے دشمن کا ایڈریس ان کو دے دیتے ہیں ۔یہیں پر اشارہ کر دیں کہ ان کے سرغنوں کے ساتھ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کی جاسوسی تنظیموں کے تربیت یافہ افراد اور آل سعود قطر ترکی کے بھیجے ہوئے کچھ افراد بھی موجود ہوتے ہیں کہ جو کسی بھی قیمت پر خود کش کاروائیوں میں شرکت نہیں کرتے اور مسلح جھڑپوں کے دوران بھی وہ زیادہ تر ان جھڑپوں کی کمان سنبھالتے ہیں کہ ان میں سے کچھ عراق اور شام میں اسیر ہوئے ہیں اور انہوں نے داعش کی ماہیت کے بارے میں آشکارا اعترافات کیے ہیں ۔
لیکن وہ حادثہ کہ جو آجکل فرانس میں رونما ہوا ہے اور جس میں بد قسمتی سے بہت سارے بے گناہوں کی جان چلی گئی ہے اور امریکہ اور کچھ دیگر یورپی ملکوں اور سعودی عرب قطر اور ترکی کی باری بھی بعد میں آنے والی ہے یقینا ان کا تعلق بھی اسی سلسلے سے ہے کہ جو داعش کے سرغنوں اور ان کے پیکر کا ہے اس کو پڑھئیے !
۵ ۔ مغرب کی اطلاعاتی ایجینسیوں نے جو ایڈریس وغیرہ اصلی دشمنوں کے سرغنوں کے دیے ہیں ان کے بارے میں سرغنے طرح طرح کے بہانوں سے اور شیطانی وسیلوں سے پیکر کے افراد کو بتاتے ہیں ایک مٹیالی فضا اور تاریک نکتہ پایا جاتا ہے ۔یہ مٹیالی فضا دیگر تمام مٹیالی فضاوں کی طرح ہمیشہ کے لیے مٹیالی نہیں رہ سکتی اور برٹیلیٹ برشٹ کے بقول ہمیشہ سب سے جھوٹ نہیں بولا جا سکتا ۔ مذکورہ ایڈریس میں اسلام کا مقابلہ کرنا ، کفار کا ساتھ دینا ، مسلمان ملتوں کے اموال کو لوٹنا ،اسلام کو ادیان کی فہرست سے محو کرنے کی کوشش کرنا ،اصلی دشمن کے اہم ترین کام بتائے گئے ہیں اور تمام غیر وہابی مسلمانوں کو ان پہچانوں کے خارجی مصادیق بتایا گیا ہے ۔یہ بالکل وہی مٹیالی فضا ہے اس بات کی وضاحت کر دیں کہ ان پہچانوں میں کوئی اشکال نہیں ہے بلکہ اشکال مصادیق کے پہچنوانے میں ہے دوسرے لفظوں میں امریکیوں اور سعودیوں نے داعش کے پیکر کے افراد کو اپنے ایڈریس دے دیے ہیں ۔ایسے مواقع پر اگر حریف بجلی کی تیزی کے ساتھ چند کامیاب کاروائیاں کر کے نتیجہ تک پہنچ جائے تو مٹیالی فضا اسی طرح مٹیالی رہے گی اور اگر بعد میں پیکر کے افراد کو پتہ چلے کہ ایڈریس غلط تھا ۔اور اب ان سے کچھ نہیں ہو پائے گا اور اگر دہشت گردی کی حرکت کو واقعی مشکل کا سامنا ہوا جیسا کہ ہو چکا ہے تو پیکر کے افراد کو موقعہ مل جاتا ہے کہ جو ایڈریس ان کو دیا گیا ہے وہ اس کے بارے میں مزید جانچ پڑتال کریں اس صورت میں حرکت کی روشنی ان مراکز اور اڈوں کی طرف گھومے گی کہ جن کی علامتیں اور نشانیاں وہی ہوں کہ جو ایڈریس میں دی گئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے شہد کی مکھیوں کے چھتے کا پروجیکٹ تیار کیا ہے اب ان کو مکھیوں کے اپنے اصلی چھتے میں واپسی کا منتظر رہنا چاہیے ۔یہ وہ مکھیاں ہیں کہ جن کے پاس ڈنک کے بجائے مشین گنیں اور گرینیڈ ہیں اور اس غلط پتے کی بنا پر جو انہیں مغربی ، عبری اور عربی تکون سے ملا ہے ،شام ،عراق ، لبنان اور یمن کے بے پناہ اور مظلوم عوام کی جان کے دشمن بن گئے ہیں ۔پیرس اس کا نکتہء آغاز ہے اور امریکہ اور یورپ کی حکومتیں او علاقے کے بعض عیاش اور مسلمان کش سر براہ جیسے آل سعود ،قطر اور دیگر حکومتیں حق رکھتی ہیں کہ اپنے ملک میں ایمر جینسی اور یہاں تک کہ فوجی حکومت کا اعلان کریں ۔ داعش کے دہشت گرد ،ایسے نہیں کہ جیسے نجیب کے جنگجو ،ایران اسلامی کے خدا جو ، حزب اللہ لبنان اور عراق ،شام اور یمن کے جان بر کف جنگ جو ہیں کہ جو عام لوگوں کی جان و ناموس اور ان کے مال کے دفاع کے لیے اپنے پاک اور مطہر جسموں کو گولیوں کا نشانہ اور بلاوں کی سپر بناتے ہیں ۔داعش والے چند نادان اور بے شعور اور صہیونیوں اور امریکی ،فرانسیسی اور برطانوی حکمرانوں کے دست پروردہ جانی اور ظالم ہیں اور مہمان کش آل سعود کے پرورش یافتہ ہیں کہ جہاں کہیں بھی حملے کا امکان ہو وہاں وہ ظلم سے اپنے ہاتھوں کو آلودہ کرتے ہیں اور جس پر بھی گولی چلانے کا ان کو موقعہ ملتا ہے اسی پر ہتھیار اٹھا لیتے ہیں پیرس میں بھی داعشیوں کی جنایت چونکہ بے گناہ لوگوں کے خلاف تھی اس لیے وہ ایک شرمناک اور پلید اقدام ہے اور فرانس کے لوگ اپنے دہشت گرد پرور حکمرانوں کی جنایات کی سزا بھگت رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲